افسانچہ

یہ میری بیٹی ہے

صدف جمال بارہ بنکی یہ کوئی اسکول میں ہونے والا چھوٹا سا مقابلہ نہ تھا بلکہ ضلع میں منعقد ہونے والا ایک بہت بڑا تقریری مقابلہ تھا جس میں بہت سے اسکول کے بچوں نے حصہ لیا تھا، آمنہ نے بھی اس مقابلے میں حصہ لیا اور سخت محنت کی …

Read More »

فسادی افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر۔ کرناٹک ۱۔ نذرِ فسادات’’اگر کچھ کہاتو ہاتھ کاٹ دیں گے ‘‘اعلان کیاگیا۔ جواباً کہاگیا’’اگراسی طرح بکواس کی تو زبان کاٹ کر ہاتھ میں دے دیں گے‘‘دونوں سیاسی پارٹیوں کے بیانات زوروں پر تھے۔ عوام حیرت زدہ سی ان بیانات کو سن اور پڑھ رہی تھی۔ …

Read More »

شخصیت سازافسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔ کرناٹک۔ ۱۔ آسان سفر’’انگلی ٹیڑھی کرنااچھی بات نہیں اور نہ ہی نگاہ کو میلی کیاجائے‘‘ امی نے نصیحت کی تھی۔ نصیحت نہیں کی ہوگی بلکہ اللہ سے میرے لئے ایسا کچھ مانگ لیاہوگاجس کانتیجہ یہ ہے کہ میرے چاہنے پر بھی انگلی ٹیڑھی نہیں ہوتی اور …

Read More »

ایک دوسطری افسانچے

محمد یوسف رحیم بیدری ، بیدر۔ کرناٹک۔ ۱۔ٹکے کا ادیبوہ خود کے علم پرفخر کرتاتھا اور کہتاتھاکہ میں وہ ادیب ہوں جس کاکوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اِ س یومِ عاشورہ کے موقع پر میں نے ا س سے کہا’’ایساکر بھائی !میدانِ سیاست میں آجا، دیکھتے ہیں نتیجہ کیانکلتاہے ؟‘‘وہ ایک …

Read More »

سال 2022 کے 201؍واں یوم یعنی چہارشنبہ کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔کرناٹک ۱۔ ضرورتِ ولیاچانک ہی بے ہوشی ممکن نہیں ہے۔ لیکن وہ بے ہوش ہوچکی تھی۔ میرادماغ کسی بڑی ساز ش کے امکان پر غور کررہاتھا۔اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کی گئی ۔مگر بے سود۔ یہ کوشش گذشتہ 500سال سے جاری ہے ۔ لیکن سرزمین …

Read More »

سال 2022 کے 186ویں یوم منگل کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔ کرناٹک۔ ۱۔ نیک گروہتالاب میں مچھلیوں کی افزائش ہونے لگی ہے۔ شکاریوں کو جال ہاتھوں میں لئے تالاب کارخ کرنا چاہیے۔ ورنہ دوسرے افراد مچھلیوں کاشکار کرلیں گے ۔ تمہارے بابا عیسیٰ نے مچھواروں کو انسانوں کاشکار کرنا سکھایاتھا۔ سکھایاتھا نا؟ اسلئے اٹھو اور الیکشن میں …

Read More »

سال 2022 کے 185ویں یوم دوشنبہ؍پیر کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔ کرناٹک ۱۔ عزمِ پرغرور’’تمہاری اِ ن حرکتوں سے اگر زمین بنجر ہوجائے تو؟‘‘ سوال اہم تھا۔’’دوسراسیارہ تلاش کرلیں گے ‘‘پرغرور عزم کے ساتھ جواب دیاگیا۔ ۲۔ انسان اور پتھر’’لوگوں سے بھلے ملیں یانہ ملیں لیکن ہلناجلنا جاری رہنا چاہیے ، اپنے مقام سے اٹھ کر دوسرے …

Read More »

سال 2022 کے 184ویں دن یعنی شنبہ ؍اتوار کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔ کرناٹک۔ ۱۔ برا نہیں مانا:ہم دونوں نے راستے جدا کرلئے ۔ ہم دونوں کو کوئی افسوس بھی نہیں تھا.دونوں کے دل البتہ حالت افسوس میں تھے ۲۔ زبانیں:زبان اظہار خیال کا ذریعہ تھی لیکن نفرت کا ذریعہ بنانے میں ہماری بالادستی کی شدید خواہش کا ہاتھ …

Read More »

سال 2022 کے 180ویں دن یعنی چہارشنبہ کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔کرناٹک۔ ۱۔ نیاشہرجیسے ہی قدیم شہر پہنچتاہوں، بہت ہی تلخ یادیں ذہن پر حملہ آور ہوجاتی ہیں۔ بڑے بھائی کی دیدہ دلیری، امی کاغضبناک چہرہ، اباکی خاموشی، اوربہنوں کارونا دھونا سبھی کچھ سامنے آجاتاہے۔ میں ساراکام جلدی جلدی ختم کرکے واپس نئے شہر آجاتاہوں۔ مجھے سکون ملتاہے۔پھلتاپھولتا،اور …

Read More »

سال 2022 کے 178ویں یوم یعنی پیر کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔ کرناٹک۔ ۱۔ بیوہ کرسیاںفنکشن ہال کے طویل وعریض فنکشن ہال میں پروگرام چل رہاتھا۔ دیوار سے لگاکر ہرقطار میں رکھی ہوئی ایک ایک کرسی اس طرح جملہ 21کرسیاں ناکارہ ہوکر رہ گئی تھیں۔کیونکہ سبھی دیوار سے ہٹ کر کرسی پر بیٹھ جاتے تھے اور بعد میں …

Read More »