مادر علمی دار العلوم ندوۃ العلماء کے دو روزہ فقہی سمینار میں شرکت

قسط (۱)

محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام، کنڈہ پرتاپگڑھ

مادر علمی دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں قائم ساٹھ سالہ قدیم فقہی و تحقیقی ادارہ مجلس تحقیقات شرعیہ کی جانب سے منعقدہ دور روزہ فقہی سمینار مورخہ ۲۳ / ۲۴نومبر بروز بدھ و جمعرات، میں بحیثیت مندوب شرکت کا موقع ملا، منگل کی شام کو ہی ندوہ پہنچ گیا، تاکہ صبح کے فقہی پروگرام میں پوری تازگی اور نشاط کے ساتھ شرکت ہوسکے، اور علم و فقہ کے ماہرین کی تحقیقات، مناقشات اور اصحاب فقہ و افتاء کے آراء سے کماحقہ استفادہ کی راہ آسان ہوسکے۔ ۲۲/ نومبر کی شام کو مغرب کی نماز کے کچھ دیر بعد ندوہ پہنچ گیا، پہلے دفتر استقبالیہ پہنچا اور وہاں اپنی انٹری کرائی، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولانا فخر الدین طیب ندوی، مولانا شمیم ندوی اور مولانا اعظم شرقی ندوی وغیرہ اور مجلس استقبالیہ کے دیگر لوگ وہاں موجود تھے، ان سب سے ملاقات ہوئی،استقبالیہ والوں نے قیام کے لیے قدیم مہمان خانہ کی دوسری منزل میں کمرہ نمبر ۱۷/ پہلے ہی سے طے کردیا تھا، دو طلبہ کے ساتھ قیام گاہ پہنچا اور دیگر ضروریات اور تقاضے سے فارغ ہوکر مغرب کی نماز ادا کی، مغرب اور عشاء کی نماز کے درمیان کا یہ وقفہ بعض دوست و احباب سے ملاقات میں گزرا، ندوہ کے گزرے ہوئے پرانے دن اور پرانی یادیں تازہ کیں ،اس درمیان مولانا رحمت اللہ ندوی استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ و کنوینر دو روزہ فقہی سمینار سے بھی برابر رابطہ رہا، عشاء کی نماز اور سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد گرامی قدر مولانا رحمت اللہ ندوی صاحب کا فون آیا ، کہ عشائیہ کا انتظام معہد القرآن زیریں ہال میں ہے، یہیں آجائیے اور کھانے سے فارغ ہوکر آرام کرلیجئے۔ عشائیہ سے فارغ ہوکر جب ہال سے باہر آیا، تو مولانا آفتاب عالم ندوی دھنبادی سے ملاقات ہوئی وہ بھی کھانے سےفارغ ہوچکے تھے، ان کا اشارہ ہوا کہ مہمان خانہ چلتے ہیں اور حضرت مرشد الامہ سے ملاقات کرتے ہیں اور ان کی مجلس میں بیٹھ کر کسب فیض کرتے ہیں۔ مہمان خانہ پہنچے، حضرت سے سلام و مصافحہ کیا، وہاں پہلے مولانا محمد فیصل بھٹکلی ندوی مولانا محمد فرمان ندوی اور بعض طلبہ موجود تھے، مولانا جعفر مسعود حسنی ندوی صاحب بھی حضرت کے تخت سے قریب ایک کرسی پر بیٹھے تھے۔ حضرت نے مولانا آفتاب عالم صاحب سے پوچھا انتظامی ذمہ داری کیساتھ تدریسی مشغلہ ہے یا نہیں؟ آفتاب صاحب نے جواب دیا کہ برائے نام کبھی کبھی ایک آدھ گھنٹے پڑھاتا ہوں، ناغہ بہت ہوتا ہے، اس لیے گھنٹے نہیں لیتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا کہ انتظامی امور سنبھالنے کے ساتھ تدریسی مشغولیت بھی ضروری ہے،اس سے علم میں بقا اور تسلسل رہتا ہے، عقل کی ترقی کے لیے تعلیم کی ترقی اور علم میں وسعت ضروری ہے،جس قدر علم وسیع ہوگا، اس میں گہرائی ہوگی،اسی قدر عقل و شعور میں وسعت اور ترقی ہوگی، علم کے تابع عقل کو رکھا گیا ہے، علم و عقل ہی کے ذریعہ انسان دیگر مخلوقات پر ممتاز و نمایاں ہے۔ حضرت نے علم کی وسعت اس کی اہمیت و ضرورت پر سورہ علق کی روشنی میں بہت معنی خیز گفتگو فرمائی اور فرمایا ، وہی علم انسان کے لیے نفع بخش ہے جو رب کے نام سے ہو، آگے سورہ تکاثر کی روشنی میں تکاثر کے معنی کی وسعت اور مفہوم پر بھی بڑی جامع اور مانع گفتگو فرمائی۔ نصف گھنٹے کی اس مجلس سے اتنا فائدہ ہوا کہ سینکڑوں صفحات کے مطالعہ کے بعد بھی علم و حکمت کے یہ موتی حاصل نہیں ہوتے ۔
بہر حال مجلس برخواست ہوئی، اپنے قیام گاہ واپس آیا اور سفر کی تکان کی وجہ سے جلد ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا ، پھر فجر سے ایک گھنٹہ قبل ہی نیند کھلی۔ دو دن کے اس فقہی سمینار کے تمام پروگرام میں پابندی کیساتھ شرکت کی اور اہل علم و اصحاب افتاء کے تلخیص مقالات، عارضین کے عرض مسئلہ اور سمینار میں ہوئے مناقشہ اور فقہی بحث تحقیق سے فائدہ اٹھایا ، سود کے مسئلہ پر راقم نے بھی مناقشہ میں حصہ لیا ، کورونا کے موضوع پر جو دو تجاویز کمیٹیاں بنی تھیں، ایک کمیٹی میں میرا نام بھی شامل تھا، جس کے کنوینر مولانا مفتی محمد اقبال قاسمی کانپور تھے۔
فقہ و فتاویٰ کے میدان میں دار العلوم ندوۃ العلماء کا کردار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہل علم اس پر متفق ہیں کہ علوم شرعیہ میں قرآن و حدیث اور اس کے متعلقہ موضوعات اور علوم و فنون پر سلف نے اتنا کام کردیا ہے کہ اگر اس پر مزید کام نہ بھی کیا جائے تو قرآن و حدیث کی حجیت کے لیے اور معترضین کے اعتراضات پر مسکت جواب دینے کے لیے سلف کی تشریحات، توضیحات اور ان کے ذریعہ تیار کردہ مواد اور کاویشیں کافی ہیں۔ لیکن علوم شرعیہ میں فقہ پر تمام تر محنتوں اور علمی کاوشوں کے باوجود کام ابھی باقی ہے اوراس میں دوام اور تسلسل جاری ہے۔ اس کے بارے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مزید غور و خوض نہ بھی ہو تو پرانے ذخیرے اور سرمائے سے کام چل جائے گا اور وہی کافی ہوجائے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ علوم و فنون اسلامی میں فقہ کو جو ایک خاص مقام حاصل ہے، وہ محتاج اظہار نہیں، فقہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ زندگی سے مربوط اور انسانی شب و روز سے متعلق، ہم آہنگ و ہم رشتہ ہے، یہ ہر شخص کی ضرورت ہے، حکمراں ہو یا محکوم، مالدار ہو یا غریب، عالم ہو یا جاہل، طاقت ور ہو یا کمزور، بڑے ہوں، یا بچے، مرد ہو یا عورت، عبادت ہو یا معاشرت، کسب معاش ہو یا طرز حکمرانی، شخصی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی، انصاف گاہ ہو یا ایوانِ اقتدار، زندگی کے مسائل ہوں یا موت کے اور صحت ہو یا بیماری، کوئی موقع اور مقام نہیں، جہاں فقہ کی روشنی اور رہبری مطلوب و مقصود نہ ہو۔ اسی لیے تاریخ کے ہر دور میں اس فن پر زمانہ کی بہترین ذہانتیں صرف ہوتی رہی ہیں، جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
اہل علم نے فقہ کو اسلام کے دوام اور ابدیت کا راز بتایا ہے، فقہ ہر زمانہ اور ہر دور میں اسلام کی رہنمائی و رہبری کی صلاحیت کو واضح کرتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ علماء ، اہل علم اور اصحاب فقہ و فتاویٰ جمود کا شکار نہ ہوں، وہ زمانہ اور حالات کے تغیرات، عرف و عادت کی تبدیلی اور ایجادات و اکتشافات پر نظر رکھیں اور یہ بھی روا نہیں کہ اباحیت و اطلاق کی راہ اختیار کریں اور نتائج و ثمرات کو ملحوظ رکھے بغیر مغرب یعنی یورپ و امریکہ سے آنے والی ہر چیز کو جائز کرتے جائیں۔ گزشتہ ادوار میں ان مسائل کو حل کرنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی غور و فکر ہوتا رہا ہے، انفرادی سطح پر اجتھاد کرنے والوں کی تعداد تو بے شمار ہے، لیکن اجتماعی اور شورائی اجتھاد کی مثالیں بھی خیر القرون میں ملتی ہیں۔۔ (جاری)

About مشرقی آواز جدید

Check Also

جنتر منتر پر دنگل

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمینائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ ہندوستان کی نامور خواتین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے